استثنا

باب: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34

0:00
0:00

باب 26

1 اور جب تُو اُس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تُجھ کو میراث کے طور پر دیتا ہے پہنچے اور اُس پر قبضہ کر کے اُس میں جس بائے ۔
2 تب جو مُلک خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے اُسکی زمین میں جو قسم قسم کی چیزیں تُو لگائے اُن سب کے پہلے پھل کو ایک ٹوکرے میں رکھ کر اُس جگہ لے جانا جسے خداوند تیرا خدا اپنے نام کے مسکن کے لیے چُنے ۔
3 اور اُن دنوں کے کاہن کے پاس جا کر اُس سے کہنا کہ آج کے دن میں خداوند تیرے خدا کے حضور اقرار کرتا ہوں کہ میں اُس ملک میں جسے ہم کو دینے کی قسم خداوند ہمارے باپ دادا سے کھائی تھی آگیا ہوں ۔
4 تب کاہن تیرے ہاتھ سے اُس ٹوکرے کو لیکر خداوند تیرے خدا کے مذبح کے آگے رکھے
5 پھر تُو خداوند اپنے خدا کے حضور یوں کہنا کہ میرا باپ ایک ارامی تھا جو مرنے پر تھا ۔ وہ مصر میں جا کر وہاں رہا اور اُسکے لوگ تھوڑے سے تھے اور وہیں وہ ایک بڑی اور زور آور اور کثیر التعداد قوم بن گیا ۔
6 پھر مصریوں نے ہم سے بُرا سلوک کیا اور ہم کو دکھ دیا اور ہم سے سخت خدمت لی ۔
7 اور ہم نے خداوند اپنے باپ دادا کے خدا کے حضور فریاد کی تو خداوند نے ہماری فریاد سُنی اور ہماری مصیبت اور محنت اور مظلومی دیکھی ۔
8 اور خداوند قوی ہاتھ اور بُلند بازو سے بڑی ہیبت اور نشانوں اور معجزوں کے ساتھ ہمکو مصر سے نکال لایا ۔
9 اور ہمکو اِس جگہ لاکر اُس نے یہ ملک جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے ہمکو دیا ہے ۔
10 سو اب اے خداوند ! دیکھ جو زمین تُو نے مجھ کو دی ہے اُسکا پہلا پھل میں تیرے پاس لے آیاں نوں ۔ پھر تُو اُسے خداوند اپنے خدا کے آگے رکھ دینا اور خداوند اپنے خدا کو سجدہ کرنا ۔
11 اور تُو اور لاوی اور جو مسافر تیرے درمیان رہتے ہوں سب کے سب مل کر اُن سب نعمتوں کے لیے جنکو خداوند تیرے خدا نے تجھ کو اور تیرے گھرانے کو بخشا ہو خوشی کرنا ۔
12 اور جب تُو تیسرے سال جو دہ یکی کا سال ہے اپنے سارے مال کی دہ یکی نکال چُکے تو اُسے لاوی اور مسافر اور یتیم اور بیوہ کو دینا تاکہ وہ اُسے تیری بستیوں میں کھائیں اور سیر ہوں ۔
13 پھر تُو خداوند اپنے خدا کے آگے یوں کہنا کہ میں نے تیرے احکام کے مطابق جو تُو نے مجھے دیے مقدس چیزوں کو اپنے گھر سے نکالا اور اُنکو لاویوں اور مسافروں اور یتینوں اور بیوواں کو دے بھی دیا اور میں نے تیرے کسی حکم کو نہیں ٹالا اور نہ اُنکو بھُولا۔
14 اور میں نے اپنے ماتم کے وقت اُن چیزوں میں سے کچھ نہیں کھایا اور ناپاک حالت میں اُنکو الگ نہیں کیا اور نہ اُن میں سے کچھ مُردوں کے لیے دیا ۔ میں نے خداوند اپنے خدا کی بات مانی ہے اور جو کچھ تُو نے حکم دیا اُسی کے مطابق عمل کیا ۔
15 آسمان پر سے جو تیرا مُقدس مسکن ہے نظر کر اور اپنی قوم اسرائیل کو اور اُس ملک کو برکت دے جس ملک میں دودھ اور شہر بہتا ہے اور جسکو تُو نے اُس قسم کے مطابق جو تُو نے ہمارے باپ دادا سے کھائی ہمکو عطا کیا ہے ۔
16 خداوند تیرا خدا آج تجھ کو اِن آئیں اور احکام کے ماننے کا حکم دیتا ہے ۔ سو تُو اپنے سارے دل اور ساری جان سے اِنکو ماننا اور اِن پر عمل کرنا ۔
17 تُو نے آج کے دن اقرار کیا ہے کہ خداوند تیرا خدا ہے اور تُو اُسکی راہوں پر چلے گا اور اُس کے آٓئین اور فرمان اور احکام مانے گا اور اُس کی بات سُنے گا ۔
18 اور خداوند نے بھی آج کے دن تجھ کو جیسا اُس نے وعدہ کیا تھا اپنی خاص قوم قرار دیا ہے تاکہ تُو اُس کے سب حکموں کو مانے ۔
19 اور وہ سب قوموں سے جنکو اُس نے پیدا کیا ہے تعریف اور نام اور عزت میں تجھ کو ممتاز کرے اور تُو اُسکے کہنے کے مطابق خداوند اپنے خدا کی مقدس قوم بن جائے ۔