استثنا

باب: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34

0:00
0:00

باب 20

1 جب تُو اپنے دشمنوں سے جنگ کرنے کو جائے اور گھوڑوں اور رتھوں اور اپنے سے بڑی فوج کو دیکھے تو اُن سے ڈر نہ جانا کیونکہ خداوند تیرا خدا جو تجھ کو ملک مصر سے نکال لایا تیرے ساتھ ہے ۔
2 اور جب معرکہ جنگ میں تمہاری مُٹھ بھیڑ ہونے کو ہو تو کاہن فوج کے آدمیوں کے پاس جا کر اپنکی طرف مخاطب ہو ۔
3 اور اُن سے کہے سُنو اے اسرائیلیو! تُم آج کے دن اپنے دُشمنوں کے مقابلہ کے لیے معرکہ جنگ میں آئے ہو سو تمہارا دل ہراسان نہ ہو ۔ تُم نہ خوف کرنو نہ کانپو ۔ نہ اُن سے دہشت کھاو۔
4 کیونکہ خداوند تمہارا خدا تمہارے ساتھ ساتھ چلتا ہے تاکہ تُم کو بچانے کو تمہاری طرف سے تمہارے دُشمنوں سے جنگ کرے ۔
5 پھر فوجی حکام لوگوں سے یوں کہیں کہ تُم میں سے جس کسی نے نیا گھر بنایا ہو اور اُسے مخصوص نہ کیا ہو وہ اپنے گھر کو لوٹ جائے تا نہ ہو کہ وہ جنگ میں قتل ہو اور دوسرا شخص اُسے مخصوص کرے ۔
6 اور جس کسی نے تاکستان لگایا ہو پر اب تک اُسکا پھل استعمال نہ کیا ہو وہ بھی اپنے گھر کو لوٹ جائے تا نہ ہو کہ وہ جنگ میں مارا جائے اور دوسرا آدمی اُسکا پھل کھائے ۔
7 اور جس نے کسی عورت سے اپنی منگنی تو کر لی ہو پر اُسے بیاہ کر نہیں لایا ہے وہ بھی اپنے گھر لو لوٹ جائے تا نہ ہو کہ وہ لڑائی میں مارا جائے اور دوسرا مرد اُسے بیاہ کر لے ۔
8 اور جوفی حکام لوگوں کی طرف سے مخاطب ہو کر اُن سے یہ بھی کہیں کہ جو شخص ڈرپوک اور کچے دل کا ہو وہ بھی اپنے گھر کو لوٹ جائے تا نہ ہو کہ اُسکی طرح اُسکے بھائیوں کا حوصلہ بھی ٹوٹ جا۴ے ۔
9 اور جب فوجی حکام یہ سب کچھ لوگوں سے کہہ چُکیں تو لشکر کے سرداروں کو اُن پر مقرر کر دیں ۔
10 جب تُو کسی شہر سے جنگ کرنے کو اُسکے نزدیک پہنچے تو پہلے اُسے صلح کا پیغام دینا ۔
11 اور اگر وہ تُجھ کو صلح کا جواب دے اور اپنے پھاٹک تیرے لیے کھول دے تو وہاں کے سب باشندے تیرے باجگذار بنکر تیری خدمت کریں ۔
12 اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے بلکہ تجھ سے لڑنا چاہے تو تُو اُسکا محاصرہ کرنا ۔
13 اور جب خداوند تیرا خدا اُسے تیر قبضہ میں کر دے تو وہاں کے ہر مرد کو تلوار سے قتل کر ڈالنا ۔
14 لیکن عورتوں اور بال بچوں اور چوپایوں اور اُس شہر کے سب مال اور لُوٹ کو اپنے لیے رکھ لینا اور تُو اپنے دشمنوں کی اُس لوٹ کو جو خداوند تیرے خدا نے تجھ کع دی ہو کھانا ۔
15 اُن سب شہروں کا یہی حال کرنا جو تجھ سے بہت دور ہیں اور اِن قوموں کے شہر نہیں ہیں ۔
16 پر اِن قوموں کے شہروں میں جنکو خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو دیتا ہے کسی ذی نفس کو جیتا نہ بچا رکھنا ۔
17 بلکہ تُو اِنکو حتی اور اموری اور کعنانی اور فرزی اور حوی اور یبوسی قوموں کو جیسا خداوند تیرے خدا نے تجھ کو حکم دیا ہے بالکل نیست کر دینا ۔
18 تاکہ وہ تُم کو اپنے سے مکروہ کام کرنے نہ سکھا۴یں جو اُنہوں نے اپنے دیوتاوں کے لیے کئے ہیں اور یوں تُم خداوند اپنے خدا کے خلاف گناہ کرنے لگو ۔
19 جب تُو کسی شہر کو فتح کرنے کے لیے اُس سے جنگ کرے اور مدت تک اُسکا محاصرہ کیے رہے تو اُسکے درختوں کو کلہاڑی سے نہ کاٹ ڈالنا کیونکہ اُنکا پھل تیرے کھانے کے کام میں آئے گا سو تُو اُنکو مت کاٹنا کیونکہ کیا میدان کا درخت انسان ہے کہ تُو اُسکا محاصرہ کرے ؟
20 سو فقط اُن ہی درختوں کو کاٹ کر اُرا دینا جو تیری دانست میں کھانے کے مطلب کے نہ ہوں اور تُو اُس شہر کے مقابل جو تجھ سے جنگ کرتا ہو برجوں کو بنا لینا جب تک وہ سر نہ ہو جائے۔