شادی اور جنس


  • اور خُداوند خُدا نے آدمؔ پر گہری نِیند بھیجی اور وہ سو گیا اور اُس نے اُسکی پسلیوں میں ایک کو نِکال لِیا اور اُسکی جگہ گوشت بھر دِیا۔۔ اور خُداوند خُدا اُس پسلی سے جو اُس نے آدمؔ سے نکلالیِ تھی ایک عَورت بنا کر اُسے آدمؔ کے پاس لایا ۔۔ اور آدمؔ نے کہا کہ یہ تو اب میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور مِیرے گوشت میں سے گوشت ہے اسلئے ناری کہلائیگی کیونکہ وہ نر سے نِکالی گئی ۔۔ اس واسطے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑیگا اور اپنی بیوی سے مِلا رہیگا اور وہ ایک تن ہونگے ۔ ۔ پیَدایش 2: 21-24
  • ور آدمؔ اپنی بیوی حوّاؔ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور اسکے قاؔئن پیدا ہوا ۔ تب اُس نے کہا مجھے خُداوند سے ایک مرد مِلا۔ ... اور آدمؔ پھر اپنی بیوی کے پاس گیا اور اُسکے ایک اَور بیٹا ہُوا اور اُسکا نام سیؔت رکھاّ اور وہ کہنے لگی کہ خُدا نے ہاؔبل کے عِوض جسکو قاؔئنِ نے قتل کیا مجھے دُوسرا فرزند دیا۔ پیَدایش 4: 1, 25
  • پر خُداوند نے فرؔعون اور اُسکے خاندان پر ابرؔام کی بیوی سارَؔی کے سبب سے بڑی بلائیں نازِل کیِں ۔ 8 تب فرعؔون نے ابراؔم کو بُلا کر اُس سے کہا کہ تُو نے مجھ سے یہ کِیا کیا ؟ تُو نے مجھے کیون نہ بتایا کہ یہ تیری بیوی ہے ؟۔ پیَدایش 12: 17-18
  • (باب نمبر 16) اور ابراؔم کی بِیوی ساؔری کے کوئی اَولاد نہ ہُوئی۔ اُسکی ایک مصری لوَنڈی تھی جِسکا نام ہاؔجرہ تھا۔ اور ساؔرَی نے ابرؔام سے کہا کہ دیکھ خُداوند نے مجھے تو اَولاد سے محروم رکھا ہے سو تُو میری لَونڈی کے پاس جا شاید اُس سے میرا گھر آباد ہو اور ابؔرام نے ساؔرَی کی بات مانی۔ اور ابرؔام کو مُلک کنعاؔن میں رہتے دس برس ہوگئے تھے جب اُسکی بیوی سؔارَی نے اپنی مصری لَونڈی اُسے دی کہ اُسکی بیوی بنے۔ پیَدایش 16: 1-3
  • تب اُس نے کہا مَیں پھر موسمِ بہار میں تیرے پاس آؤنگا اوردیکھ تیری بیوی سارؔہ کے بیٹا ہوگا ۔ اُسکے پیچھے دیرے کا دروازہ تھا ۔ سارؔہ وہاں سے سُن رہی تھی۔ اور ابرؔہام اور سارؔہ ضعیف اور بڑی عمر کے تھے اور سارؔہ کی وہ حالت نہیں رہی تھی جو عورتوں کی ہوتی ہے۔ تب سارؔہ نے اپنے دِل میں ہنس ہر کہا کِیا اِس قدر عُمر رسیدہ ہونے پر بھی میرے لئِے شادمانی ہو سکتی ہے حالانکہ میرا خاوند بھی ضیعف ہے ؟۔ پیَدایش 18: 10-12
  • اور اوؔنان جانتا تھا کہ یہ نسل میری نہ کہلائیگی ۔ سو یُوں ہُوا کہ جب وہ اپنے بھائی کی بیوی کے پاس جاتا تو نطُفہ کو زمین پر گرا دیتا تھا کہ مبادا اُسکے بھا ئی کے نام سے نسل چلے ۔ اور اُسکا یہ کام خُداوند کی نظر میں بہت بُرا تھا اِسلئے اُس نے اُسے بھی ہلاک کیا۔ پیَدایش 38: 9-10
  • تُو زِنانہ کر۔ّ خُروج 20: 14
  • تُو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا ۔ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اسکے غلام اور اسکی لونڈی اور اسکے بیل اور اسکے گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کسی اور چیز کا لالچ کرنا ۔ خُروج 20: 17
  • تو اپنے باپ کی بیوی کے بدن کو بے پردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیرے باپ کا بدن ہے۔تو اپنی بہن کے بدن کو چاہے وہ تیرے باپ کی بیٹی ہو چاہے تیری ماں کی خواہ وہ گھر میں پیدا ہوئی ہو خواہ اور کہیں بے پردہ نہ کرنا۔ ... ور تو اپنے کو نجس کرنے کے لئے اپنے ہمسایہ کی بیوی سے صحبت نہ کرنا۔ احبار 18: 8, 20
  • اور جو شخص دوسرے کی بیوی سے یعنی اپنے ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرے وہ زانی اور زانیہدونوں ضرور جان سے مار دئے جائیں۔ ...اور اگر کوئی مرد سے صحبت کرے جیسے عورت سے کرتے ہیں تو ان دونوں نے نہایت مکروہ کام کیا ہے۔سو وہ دونوں ضرور جان سےمارے جائیں۔انکا خون ان ہی کی گردن پر ہوگا۔ احبار 20: 10, 13
  • وہ کسی فاحشہ یا ناپاک عورت سے بیاہ نہ کریں اور نہ اس عورت سے بیاہ کریں جسے اسکے شوہر نے طلاق دی ہو کیونکہ کاہن اپنے خدا کے لئے مقدس ہے۔ احبار 21: 7
  • اور وہ کنواری عورت سے بیاہ کرے۔ جو بیوہ یا مطلقہ یا ناپاک عورت یا فاحشہ ہو ان سے وہ بیاہ نہ کرے بلکہ وہاپنی ہی قوم کی کنواری کو بیاہ لے۔ احبار 21: 13-14
  • غیرت کے بارے یہی شرع ہے خواہ عورت اپنے شوہر کی ہوتی ہوئی گمراہ ہو کر ناپاک ہو جائے یا مرد پر غیرت سوار ہو اور وہ اپنی بیوی سے غیرت کھانے لگے ایسے حال میں وہ اس عورت کو خداوند کے آگے کھڑی کرے اور کاہن گنتی 5: 29-30
  • اگر کوئی مرد کسی عورت کو بہایے اور اُسکے پاس جائے اور بعد اُسکے اُس سے نفرت کر کے شرمناک باتیں اُسکے حق میں کہے اور اُسے بدنام کرنے کے لیے یہ دعویٰ کرے کہ میں نے اِس عورت سے بیاہ کیا اور جب میں اُسکے پاس گیا تو میں نے کنوارے پن کے نشان اُس میں نہیں پائے تب اُس لڑکی کا باپ اور اُسکی ماں اُس لڑکی کے کنوارے پن کے نشانوں کو اُس شہر کے پھاٹک پر بزرگوں کے پاس لے جائیں ۔ اور اُس لڑکی کا باپ بزرگوں سے کہے کہ میں نے اپنی بیٹی اِس شخص کو بیاہ دی پر یہ اُس سے نفرت رکھتا ہے ۔ اور شرمناک باتیں اُس کے حق میں کہتا اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے تیری بیٹی میں کنوارے پن کے استثنا 22: 13-17
  • اگر کوئی مرد کسی عورت سے بیاہ کرے اور پیچھے اُس میں کوئی ایسی بیہودہ بات پائے جس سے اُس عورت کی طرف اُسکی التفات نہ رہے تو وہ اُس کا طلاق نامہ لکھ کر اُس کے حوالہ کرے اور اُسے اپنے گھر سے نکال دے ۔ استثنا 24: 1
  • پھر داؔؤد نے اپنی بیوی بتؔ سبع کو تسلیّ دی اور اُسکے پاس گیا اور اُس سے صُحبت کی اور اُس کے ایک بیٹا ہُؤا اور داؔؤد نے اُسکا نام سُلؔیمان رکھا اور وہ خُدواند کا پیارا ہوُا ۔ سموئیل 12: 24
  • لیکن ابیاہ قوی ہوگیا اور اُس نے چودہ بیویاں بیاہیں اور اُس سے بائیس بیٹے اور سولہ بیٹیاں پیدا ہوئیں ۔ ۔توارِیخ ۲ 13: 21
  • تیری بیوی تیرے گھر کے اندر میوہ دار تاک کی مانند ہو گی۔ اور تیری اولاد تیرے دستر خوان پر زیتون کے پودوں کی امنند ۔ زبُور 128: 3
  • تیرا سوتا مُبارک ہواور تو اپنی جوانی کی بیوی کے ساتھ شادرہ ۔ پیاری ہرنی اور دلفریب غزال کی ماننداُسکی چھاتیاں تجھے ہر وقت آسودہ کریں اور اُسکی محبت تجھے ہمیشہ فریفتہ رکھے۔ اِمثال 5: 18-19
  • وہ بھی اَیسا ہے جو اپنے پڑوسی کی بیوی کے پاس جٓاتا ہے۔جو کوئی اُسے چھوئے بے سزا نہ رہیگا۔ اِمثال 6: 29
  • جو کسی عورت سے زنا کر تا ہے وہ بے عقل ہے ۔ وہی اَیسا کرتا ہے جو اپنی جٓان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ اِمثال 6: 32
  • جس کو بیوی ملی اُس نے تحفہ پایا اور اُس پر خداوند کا فضل ہوا۔ اِمثال 18: 22
  • گھر اور مال تو باپ دادا سے میراث میں ملتے ہیں لیکن دانشمند بیوی خداوند سے ملتی ہے۔ اِمثال 19: 14
  • گھر کی چھت پر کونے میں رہناجھگڑالو بیوی کے ساتھ کشادہ گھر میں رہنے سے بہتر ہے ۔ اِمثال 21: 9
  • اپنی بطالت کی زندگی کے سب دن جواُس نے دُنیا میں تجھے بخشی ہے ہاں اپنی بطالت کے سب دن اُس کی بیوی کے ساتھ جو تیری پیاری ہے عیش کر لے کہ اس زندگی میں اور تیری اُس محنت کے دوران میں جو تو نے دُنیا میں کی تیرا یہی بخرہ ہے۔ واعظ 9: 9
  • وہ اپنے منہ کے چُوموں سے مُجھے چُومے۔کیونکہ تیرا عشق مے سے بہتر ہے۔ غزلُ الغزلات 1: 2
  • اُسکا بایاں ہاتھ میرے سر کے نیچے ہے اور اُسکا دہنا ہاتھ مجھے گلے سے لگاتا ہے۔ غزلُ الغزلات 2: 6
  • تیری دونوں چھاتیاں دو توام آہو بچے ہیں جو سوسنوں میں چرتے ہیں۔ ...اَے میری پیاری !میری زوجہ !تونے میرا دِل لُوٹ لیا ۔اپنی ایک نظر سے ۔اپنی گردن کے ایک طوق سے تونے میرا دِل غارت کر لیا ۔ اَے میری پیاری !میری زوجہ !تیرا عشق کیا خوب ہے ! تیری محبت مے سے زیادہ لذیذ ہے اور تیرے عطروں کی مہک ہر طرح کی خوشبو سے بڑھکر ہے۔ غزلُ الغزلات 4: 5, 9, 10
  • اےبانجھ توبےاولاد تھی نغمہ سرائی!تو جس نے ولادت کا برداشت نہیں کیا خوشی سے گا اور زور سے چلا کیونکہ خُداوند فرماتا ہے کہ بے کس چھوڑی ہوئی کی اولاد سے زیادہ ہے۔ أیسعیاہ 54: 1
  • خداوند فرماتا ہے اَے برگشتہ بچو واپس آو! کیونکہ میں خود تمہارا مالک ہوں اور میں تم کو ہر ایک شہر میں سے ایک اور ہر گھرانے میں سے دو لیکر صیون میں لاؤنگا۔ یرمیاہ 3: 14
  • خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تیری ناپاکی بہہ نکلی اور تیری برہنگی تیری بدکای کے باعث جو تو نے اپنے یاروں سے کی اور تیرے سب نفرتی بتوں کے سبب سے اور تیرے بچوں کے خون کے سبب سے جو تو نے ان کے آگے گذرانہ ظاہر ہوگئی۔ اس لئے دیکھ میں تیرے سب یاروں کو جن کو تو لذیز تھی اور ان سب کو جن کو تو چاہتی تھی اور ان سب کو جن سے تو کینہ رکھتی ہے جمع کروں گا۔ میں ان کو چاروں طرف سے تیری مخالفت پرفراہم کروں گا اور ان کے آگے تیری برہنگی کھول دوں گا تاکہ وہ تیری تمام برہنگی دیکھیں۔ حزقی ایل 16: 36-37
  • جب خداوند نے شروع میں ہوسیع کی معرفت کلام کیاتو اس کو فرمایا کہ جا کہ ایک بد کار بیوی اور بدکاری کی اولاد اپنے لے کیونکہ مُلک نے خُداوندکو چھوڑ کربڑی بدکاری کی ہے۔ ہوسیع 1: 2
  • تم اپنی ماں سے حُجت کرو کیونکہ نہ وہ میری بیوی ہے اور نہ میں اُس کا شوہر ہوں وہ اپنی بدکاری اپنے سامنے سے اور اپنی زناکاری اپنے پستانوں سے دُور کرے۔ ہوسیع 2: 2
  • یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو کوئی اپنی بِیوی کو چھوڑے اُسے طلاق نامہ لِکھ دے۔ لیکِن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جو کوئی اپنی بِیوی کو حرامکاری کے سِوا کِسی اور سبب سے چھوڑ دے وہ اُس سے زِنا کراتا ہے اور جو کوئی اُس چھوڑی ہُوئی سے بیاہ کرے وہ زِنا کرتا ہے۔ متّی 5: 31-32
  • اِس سبب سے مرد باپ سے اور ماں سے جُدا ہوکر اپنی بِیوی کے ساتھ رہے گا اور وہ دونوں ایک جِسم ہوں گے؟ پَس وہ دو نہِیں بلکہ ایک جِسم ہیں۔ اِس لِئے جِسے خُدا نے جوڑا ہے اُسے آدمِی جُدا نہ کرے۔ متّی 19: 5-6
  • اور جِس کِسی نے گھروں یا بھائِیوں یا بہنوں یا باپ یا ماں یا بچّوں یا کھیتّوں کو میرے نام کی خاطِر چھوڑ دِیا ہے اُس کو سوگُنا مِلے گا اور ہمیشہ کی زِندگی کا وارِث ہوگا۔ متّی 19: 29
  • اَے اُستاد مُوسٰی نے کہا تھا کہ اگر کوئی بے اولاد مر جائے تو اُس کا بھائِی اُسکی بِیوی سے کرلے اور اپنے بھائِی کے لِئے نسل پَیدا کرے۔ ...کِیُونکہ قِیامت میں بیاہ شادِی نہ ہوگی بلکہ لوگ آسمان پر فرِشتوں کی مانِند ہوں گے۔ متّی 22: 24, 30
  • اُنہوں نے کہا مُوسٰی نے تو اِجازت دی ہے کہ طلاق نامہ لِکھ کر چھوڑدیں۔ مگر یِسُوع نے اُن سے کہا کہ اُس نے تُمہاری سخت دِلی کے سبب سے تُمہارے لئِے یہ حُکم لکِھّا تھا۔ لیکِن خِلقَت کے شُرُوع سے اُس نے اُنہِیں مرد اور عَورت بنایا۔ اِسلئِے مرد اپنے باپ سے اور ماں سے جُدا ہوکر اپنی بِیوی کے ساتھ رہے گا۔ اور وہ اور اُس کی بِیوی دونوں ایک جِسم ہوں گے۔ پَس وہ دو نہِیں بلکہ ایک جِسم ہیں۔ 9 اِسلئِے جِسے خُدا نے جوڑا ہے اُسے آدمِی جُدا نہ کرے۔ مرقس 10: 4-9
  • اور اگر عَورت اپنے شَوہر کو چھوڑدے اور دُوسرے سے بیاہ کرے تو زِنا کرتی ہے۔ مرقس 10: 12
  • اور آشر کے قبِیلہ میں سے حنّاہ نام فنوایل کی بیٹی ایک نبِیّہ تھی۔ وہ بہُت عُمر رسِیدہ تھی اور اُس نے اپنے کنوارپن کے بعد سات برس ایک شَوہر کے ساتھ گُذارے تھے۔ لُوقا 2: 36
  • جب کوئی تُجھے شادِی میں بُلائے تو صدر جگہ پر نہ بَیٹھ کہ شاید اُس نے کِسی تُجھ سے بھی زِیادہ عِزّت دار کو بُلایا ہو۔ لُوقا 14: 8
  • کہ لوگ کھاتے پِیتے تھے اور اُن میں بیاہ شادِی ہوتی تھی۔ اُس دِن تک جب نُوح کَشتی میں داخِل ہُؤا اور طُوفان نے آ کر سب کو ہلاک کِیا۔ لُوقا 17: 27
  • یِسُوع نے سِیدھے ہو کر اُس سے کہا اَے عَورت یہ لوگ کہاں گئے؟کیا کِسی نے تُجھ پر حُکم نہِیں لگایا؟۔ اُس نے کہا اَے خُداوند کِسی نے نہِیں۔ یِسُوع نے کہا مَیں بھی تُجھ پر حُکم نہِیں لگاتا۔ جا۔ پِھر گُناہ نہ کرنا۔ ] یُوحنّا 8: 10-11
  • چُنانچہ جِس عَورت کا شَوہر مَوجُود ہے وہ شَرِیعَت کے مُوافِق اپنے شَوہر کی زِندگی تک اُس کے بند میں ہے لیکِن اگر شوہر شوہر مرگیا تو وہ شَوہر کی شَرِیعَت سے چھُوٹ گئی۔ پَس اگر شَوہر کے جِیتے جی دُوسرے مرد کی ہوجائے تو زانِیہ کہلائے گی لیکِن اگر شَوہر مرجائے تو وہ اُس شَرِیعَت سے آزاد ہے۔ یہاں تک کہ اگر دُوسرے مرد کی ہو بھی جائے تو زانِیہ نہ ٹھہریگی۔ رومیوں 7: 2, 3
  • یہاں تک سُننے میں آیا ہے کہ تُم میں حرامکاری ہوتی ہے بلکہ اَیسی حرامکاری جو غَیرقَوموں میں بھی نہِیں ہوتی چُنانچہ تُم میں سے ایک شَخص اپنے باپ کی بِیوی کو رکھتا ہے۔ اور تُم افسوس تو کرتے نہِیں تاکہ جِس نے یہ کام کِیا وہ تُم میں سے نِکالا جائے بلکہ شَیخی مارتے ہو۔ کُرنتھِیوں ۱ 5: 1, 2
  • کیا تُم نہِیں جانتے کہ بدکار خُدا کی بادشاہی کے وارِث نہ ہوں گے؟ فریب نہ کھاؤ۔ نہ حرامکار خُدا کی بادشاہی کے وارِث ہوں گے۔ نہ بُت پرست نہ زنا کار نہ عیاش۔ نہ لَونڈے باز۔ نہ چَور۔ نہ لالچی نہ شرابی۔ نہ گالِیاں بکنے والے نہ ظالِم۔ کُرنتھِیوں ۱ 6: 9-10
  • کھانے پیٹ کے لِئے ہیں اور پیٹ کھانوں کے لِئے لیکِن خُدا اُس کو اور اُن کو نِیست کرے گا مگر بَدَن حرامکاری کے لِئے نہِیں بلکہ خُداوند کے لِئے ہے اور خُداوند بَدَن کے لِئے۔ اور خُدا نے خُداوند کو بھی جِلایا اور ہم کو بھی اپنی قُدرت سے جِلائے گا۔ کُرنتھِیوں ۱ 6: 13, 14
  • حرامکاری سے بھاگو۔ جِتنے گُناہ آدمِی کرتا ہے وہ بَدَن سے باہِر ہیں مگر حرامکار اپنے بَدَن کا بھی گُنہگار ہے۔ کیا تُم نہِیں جانتے کہ تُمہارا بَدَن رُوحُ القدُس کا مَقدِس ہے جو تُم میں بسا ہُؤا ہے اور تُم کو خُدا کی طرف سے مِلا ہے؟ اور تُم اپنے نہِیں۔ کِیُونکہ قِیمت سے خرِیدے گئے ہو۔ پَس اپنے بَدَن سے خُدا کا جلال ظاہِر کرو۔ کُرنتھِیوں ۱ 6: 18-20
  • جو باتیں تُم نے لِکھی تھِیں اُن کی بابت یہ ہے۔ مرد کے لِئے اچھّا ہے کہ عَورت کو نہ چھُوئے۔ لیکِن حرامکاری کے اندیشہ سے ہر مرد اپنی بِیوی اور ہر عَورت اپنا شوہر رکھّے۔ کُرنتھِیوں ۱ 7: 1, 2
  • شوہر بِیوی کا حق ادا کرے اور وَیسا ہی بِیوی شوہر کا۔ بِیوی اپنے بَدَن کی مُختار نہِیں بلکہ شوہر ہے۔ اِسی طرح شوہر بھی اپنے بَدَن کا مُختار نہِیں بلکہ بِیوی۔ تُم ایک دُوسرے سے جُدا نہ رہو مگر تھوڑی مُدّت تک آپس کی رضامندگی سے تاکہ دُعا کے واسطے فُرصت مِلے اور پھِر اِکٹھے ہو جاؤ۔ اَیسا نہ ہو کہ غلبۂِ نفس کے سبب شَیطان تُم کو آزمائے۔ کُرنتھِیوں ۱ 7: 3-5
  • پَس مَیں بے بیاہوں اور بیواؤں کے حق میں یہ کہتا ہُوں کہ اُن کے لِئے اَیسا ہی رہنا اچھّا ہے جَیسا مَیں ہُوں۔ لیکِن اگر ضبط نہ کرسکو تو بیاہ کر لیں کِیُونکہ بیاہ کرنا مست ہونے سے بہُتر ہے۔ مگر جِن کا بیاہ ہو گیا ہے اُن کو مَیں نہِیں بلکہ خُداوند حُکم دیتا ہے کہ بِیوی اپنے شوہر سے جُدا نہ ہو۔ (اور اگر جُدا ہو تو یا بے نِکاح رہے یا اپنے شوہر سے پھِر مِلاپ کر لے) نہ شوہر بِیوی کو چھوڑے۔ کُرنتھِیوں ۱ 7: 8-11
  • کِیُونکہ جو شَوہر بااِیمان نہِیں وہ بِیوی کے سبب سے پاک ٹھہرتا ہے اور جو بِیوی بااِیمان نہِیں وہ مسِیحی شَوہر کے باعِث پاک ٹھہرتی ہے ورنہ تُمہارے فرزند ناپاک ہوتے مگر اَب پاک ہیں۔ کُرنتھِیوں ۱ 7: 14
  • پَس مَیں یہ چاہتا ہُوں کہ تُم بے فِکر رہو۔ بے بیاہا شَخص خُداوند کی فِکر میں رہتا ہے کہ کِس طرح خُداوند کو راضی کرے۔ مگر بیاہا ہُؤا شَخص دُنیا کی فِکر میں رہتا ہے کہ کِس طرح اپنی بِیوی کو راضی کرے۔ بیاہی اور بے بیاہی میں بھی فرق ہے۔ بے بیاہی خُداوند کی فِکر میں رہتی ہے تاکہ اُس کا جِسم اور رُوح دونوں پاک ہوں مگر بیاہی ہُوئی عَورت دُنیا کی فِکر میں رہتی ہے کہ کِس طرح اپنے شَوہر کو راضی کرے۔ کُرنتھِیوں ۱ 7: 32-34
  • جب تک کہ عَورت کا شَوہر جِیتا ہے وہ اُس کی پاِبنِد ہے پر جب اُس کا شَوہر مر جائے تو جِس سے چاہے بیاہ کر سکتی ہے مگر صِرف خُداوند میں۔ کُرنتھِیوں ۱ 7: 39
  • اب جِسم کے کام تو ظاہِر ہیں یعنی حرامکاری۔ ناپاکی۔ شہوت پرستی۔ بُت پرستی۔ جادُوگری۔ عَداوَتیں۔ جھگڑا۔ حسد۔ غُصّہ۔ تفرقے۔ جُدائِیاں۔ بِدعتیں۔ بُغض۔ نشہ بازی۔ ناچ رنگ۔ اور اَور اِن کی مانِند۔ اِن کی بابت تُمہیں پہلے سے کہہ دیتا ہُوں جَیسا کہ پیشتر جتا چُکا ہُوں کہ اَیسے کام کرنے والے خُدا کی بادشاہی کے وارِث نہ ہوں گے۔ گلتیوں 5: 19-21
  • اور جَیسا کہ مُقدّسوں کو مُناسِب ہے تُم میں حرامکاری اور کِسی طرح کی ناپاکی یا لالچ کا ذِکر تک نہ ہو۔ افسیوں 5: 3
  • اَے بِیویو! اپنے شَوہروں کی اَیسی تابِع رہو جَیسے خُداوند کی۔ کِیُونکہ شَوہر بِیوی کا سر ہے جَیسے کہ مسِیح کلِیسیا کا سر ہے اور وہ خُود بَدَن کا بَچانے والا ہے۔ لیکِن جَیسے کلِیسیا مسِیح کے تابِع ہے وَیسے ہی بِیویاں بھی ہر بات میں اپنے شَوہروں کے تابِع ہوں۔ اَے شَوہرو! اپنی بِیویوں سے محبّت رکھّو جَیسے مسِیح نے بھی کلِیسیا سے محبّت کر کے اپنے آپ کو اُس کے واسطے مَوت کے حوالہ کر دِیا۔ تاکہ اُس کو کلام کے ساتھ پانی سے غُسل دے کر اور صاف کر کے مُقدّس بنائے۔ اور ایک اَیسی جلال والی کلِیسیا بنا کر اپنے پاس حاضِر کرے جِس کے بَدَن میں داغ یا جھُرّی یا کوئی اَور اَیسی چِیز نہ ہو بلکہ پاک اور بے عَیب ہو۔ اِسی طرح شَوہروں کو لازِم ہے کہ اپنی بِیویوں سے اپنے بَدَن کی مانِند محبّت رکھّیں۔ جو اپنی بِیوی سے محبّت رکھتا ہے وہ اپنے آپ سے محبّت رکھتا ہے۔ کِیُونکہ کبھی کِسی نے اپنے جِسم سے دُشمنی نہِیں کی بلکہ اُس کو پالتا اور پرورِش کرتا ہے جَیسے کہ مسِیح کلِیسیا کو۔ اِس لِئے کہ ہم اُس کے بَدَن کے عضُو ہیں۔ اِسی سبب سے آدمِی باپ سے اور ماں سے جُدا ہوکر اپنی بِیوی کے ساتھ رہے گا اور وہ دونوں ایک جِسم ہوں گے۔ یہ بھید تو بڑا ہے لیکِن مَیں مسِیح اور کلِیسیا کی بابت کہتا ہُوں۔ 3 بہرحال تُم میں سے بھی ہر ایک اپنی بِیوی سے اپنی مانِند محبّت رکھّے اور بِیوی اِس بات کا خیال رکھّے کہ اپنے شَوہر سے ڈرتی رہے۔ افسیوں 5: 22-33
  • پَس اپنے اُن عضا کو مُردہ کرو جو زمِین پر ہیں یعنی حرامکاری اور ناپاکی اور شہوت اور بُری خواہِش اور لالچ کو جو بُت پرستی کے برابر ہے۔ کُلسّیوں 3: 5
  • چُنانچہ خُدا کی مرضی یہ ہے کہ تُم پاک بنو یعنی حرامکاری سے بچے رہو۔ اور ہر ایک تُم میں سے پاکیزگی اور عِزّت کے ساتھ اپنے ظرف کو حاصِل کرنا جانے۔ نہ شہوت کے جوش سے اُن قَوموں کی مانِند جو خُدا کو نہِیں جانتیں۔ تھِسلُنیکیوں ۱ 4: 3-5
  • اور حرامکاروں اور لَونڈے بازوں اور بردہ فروشوں اور جھُوٹوں اور جھُوٹی قَسم کھانے والوں اور اِن کے سِوا صحیح تعلِیم کے اَور برخِلاف کام کرنے والوں کے واسطے ہے۔ تیمِتھُیس ۱ 1: 10
  • پَس نِگہبان کو بے اِلزام۔ ایک بِیوی کا شَوہر۔ پرہیزگار۔ مُتّقی۔ شایستہ۔ مُسافرپرور اور تعلِیم دینے کے لائِق ہونا چاہئے۔ ...خادِم ایک ایک بِیوی کے شوہر ہوں اور اپنے اپنے بچّوں اور گھروں کا بخُوبی بندوبست کرتے ہوں۔ تیمِتھُیس ۱ 3: 2, 12
  • جو بے اِلزام اور ایک ایک بِیوی کے شوہر ہوں اور اُن کے بچّے اِیماندار اور بد چلنی اور سرکَشی کے اِلزام سے پاک ہوں۔ طِطُس 1: 6
  • بیاہ کرنا سب میں عِزّت کی بات سَمَجھی جائے اور بِستر بے داغ رہے کِیُونکہ خُدا حرامکاروں اور زانِیوں کی عدالت کرے گا۔ العبرانيين 13: 4
  • اَے شوہرو! تُم بھی بِیویوں کے ساتھ عقل مندی سے بسر کرو اور عَورت کو نازک ظرف جان کر اُس کی عِزّت کرو اور یُوں سَمَجھو کہ ہم دونو زِندگی کی نعِمت کے وارِث ہیں تاکہ تُمہاری دُعائیں رُک نہ جائیں۔ پطرس ۱ 3: 7
  • پر مُجھے تُجھ سے یہ شِکایت ہے کہ تُو نے اُس عَورت اِیزبِل کو رہنے دِیا ہے جو اپنے آپ کو نبِیّہ کہتی ہے اور میرے بندوں کو حرامکاری کرنے اور بُتوں کی قُربانیاں کھانے کی تعلِیم دے کر گُمراہ کرتی ہے۔ مُکاشفہ 2: 20
  • اور جو خُون اور جادُوگری اور حرامکاری اور چوری اُنہوں نے کی تھی اُن سے تَوبہ نہ کی۔ مُکاشفہ 9: 21
  • کِیُونکہ اُس کے فیصلے راست اور دُرُست ہیں اِس لِئے کہ اُس نے اُس بڑی کسبی کا اِنصاف کِیا جِس نے اپنی مُکاشفہ 19: 2